شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس: مودی اور شہباز شریف کی ملاقات کا کتنا امکان ہے؟
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا ہے، جہاں دنیا کے کئی اہم قائدین کی آمد اور سائیڈ لائن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اس بین الاقوامی فورم پر جہاں دنیا کی نظریں عالمی اور علاقائی حکمتِ عملی پر مرکوز ہیں، وہیں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک ہی شہر اور ایک ہی عمارت میں موجودگی نے سفارتی حلقوں میں زبردست دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
شہباز شریف وزراء کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ بشکیک پہنچے ہیں جبکہ نریندر مودی پہلے سے وہاں موجود ہیں اور مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
بشکیک پہنچتے ہی بھارتی وزیراعظم نے اپنی سفارتی مصروفیات کا آغاز کر دیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، انہوں نے آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینیان اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور کرغزستان کے صدر سدیر جاپاروف سے بھی اعلیٰ سطحی بات چیت طے ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر اپنے وفد کے ہمراہ بشکیک میں موجود ہیں، جس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر تجارت جام کمال خان شامل ہیں۔ شہباز شریف نہ صرف ایس سی او اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں بلکہ پاکستان آئندہ کی صدارت بھی سنبھالنے جا رہا ہے۔ وہ کرغزستان کے صدر سے دو طرفہ ملاقات کے علاوہ ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
اس تمام سفارتی ڈرامے میں سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا بھارتی اور پاکستانی وزرائے اعظم کے درمیان کوئی ملاقات ہوگی یا نہیں۔
بھارتی حکام کی جانب سے کسی باضابطہ یا منظم دوطرفہ ملاقات کا کوئی بھی امکان ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔
تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تمام رکن ممالک کے سربراہان ایک ہی ہال میں موجود ہوں گے، تو گروپ فوٹو یا عشائیے کے دوران دونوں رہنماؤں کا آمنا سامنا، مصافحہ یا ان کا طرزِ عمل آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی کیمسٹری کا اشارہ دے گا۔